خبر کا کوڈ: 378820
تاریخ نشر: 22 August 2014 - 03:00
دس ساله فلسطيني شهيد ابراهيم كي والده كهتي هيں: اسرائيلي بموں اور ميزائلوں نے كل تك ابراهيم كو زندگي كي مهلت دي ليكن اس كے بعد انهوں نے غزه كي سرزمين ميں اس كا نشانه ليا اور وه شهيد هوگيا۔

نويد شاهد: ايرنا كے مطابق، دس ساله فلسطيني شهيد كي غمزده ماں نے اپنے بيٹے كي زندگي كے آخري ايام كے بارے ميں نامه نگاروں كے ساته گفتگو كرتے هوئے كها:عيد فطر كے دن بهي ابراهيم ايك راكٹ كي زد ميں آيا ليكن اسے صرف زخمي كرسكا ليكن كچه هي د كے بعد راكٹوں نے پهر اس كا رخ كيا اور اسے سرحد شهادت ميں داخل كرديا۔
ابراهيم غزه كے دسيوں معصوم بچوں كي طرح اپني جان كا نذرانه پيش كركے چلا گيا ليكن ماں باپ كے دل پر كبهي نه مٹنے والا ايك داغ چهوڑ گيا۔
ابراهيم كي والده كهتي هيں: وه هر جمعه كي طرح اس بار بهي نماز جمعه كے لئے تيار هوا،وه جيسے هي گهر سے باهر نكلا هم نے ايك بلاسٹ كي آواز سني،مجهے ايسے لگا جيسےميرا دل مجه سے الگ هوگيا،كچه لوگوں نے كها: اس بلاسٹ كسي كي شهادت نهيں هوئي هے ليكن ميرا دل مطمئن نهيں تهااس لئے ميں نے كها: مجهے ابراهيم كو ديكهنا هے۔
ميرے اصرار پر سر اسے ڈهونڈنے نكلے تو كسي نے بتايا ابراهيم زخمي هوگيا هے،ليكن كچه هي دير بعد كهنے لگے: نهيں وه شهيد هوگيا هے۔مجهے اس كي شهادت كا يقين اس وقت هوا جب ميں نے اس كا جنازه اس كے باپ كے هاتهوں پر ديكها۔
يه كهتے هوئے ابراهيم كي والده رونے لگيں اور اس كي خاله نے گفتگو كو جاري ركهتے هوئے كها: الله كي پناه۔نهيں معلوم اسے كيوں راكٹ كا نشانه بنايا گيا۔ كيا اس نے بهي ان كو كوئي راكٹ مارا تها؟كيا مزاحمت والے مسجد سے راكٹ پهينكتے هيں جو مسجد پر راكٹ مارے جاتے هيں؟
رپورٹ كے مطابق،غزه پٹي ميں صهيونيوں نے اس بار اب تك 214 سے زائد مسجدوں پرحمله كيا هے۔
حاج زهيرالدوواسه شهيد ابراهيم كے والد هيں جو گهر كے دروازے پر كهڑے آنے والوں كي تسليت كا جواب خنده پيشاني سے ديتےهيں۔انهوں نے روز عيد فطر ابراهيم كے هاته كے زخمي هونے كي اشاره كرتے هوئےكها:زخمي هونے كے بعد دو دن وه اسپتال ميں داخل رها ليكن اس كے بعد جگه كي قلت كي وجه سے دسچارج كرديا گيا۔ليكن جمعه كو دوباره اسے اسرائيلوں نے راكٹ كا نشانه بنايا۔
حاج زفهير نے مزيد كها:ابراهيم نے جانے سے 15 منٹ پهلے مجه سے نماز ميں جانے كي اجازت لي اور جيسے هي وه باهر نكلا هميں ايك بلاسٹ كي آواز سنائي دي۔ هم حيران و پريشان باهر نكلے توابراهيم كو خاك و خون ميں غلطاں ديكها۔راكٹ اس كے سر ميں لگا تها اور وه شهيد هوچكا تها۔
اس شهيد كے والد نے مزاحمتي مجاهدين سے درخواست كي كه صهيونيوں سے اس كے بيٹے كے خون كا بدله ضرور ليں اور انهيں هرگز معاف نه كريں۔
انهوں نے كها: عربي ممالك فلسطين كے خلاف اور صيهونيوں كي حمايت ميں كام كرتے هيں اور فلسطينوں كي اس دردناك صورتحال كے اصل ذمه دار عربي ممالك هيں۔
حاج زهير نے كها: اهل فلسطين كي مزاحمت اور ثابت قدمي ان كے آخري قطره خون تك اور آخر ي بچے كي شهادت تك جاري رهے گي اور وه كبهي بهي دشمن كے سامنے گهٹنے نهيں ٹيكيں گے۔

نويد شاهد: ايرنا كے مطابق، دس ساله فلسطيني شهيد كي غمزده ماں نے اپنے بيٹے كي زندگي كے آخري ايام كے بارے ميں نامه نگاروں كے ساته گفتگو كرتے هوئے كها:عيد فطر كے دن بهي ابراهيم ايك راكٹ كي زد ميں آيا ليكن اسے صرف زخمي كرسكا ليكن كچه هي د كے بعد راكٹوں نے پهر اس كا رخ كيا اور اسے سرحد شهادت ميں داخل كرديا۔ ابراهيم غزه كے دسيوں معصوم بچوں كي طرح اپني جان كا نذرانه پيش كركے چلا گيا ليكن ماں باپ كے دل پر كبهي نه مٹنے والا ايك داغ چهوڑ گيا۔ ابراهيم كي والده كهتي هيں: وه هر جمعه كي طرح اس بار بهي نماز جمعه كے لئے تيار هوا،وه جيسے هي گهر سے باهر نكلا هم نے ايك بلاسٹ كي آواز سني،مجهے ايسے لگا جيسےميرا دل مجه سے الگ هوگيا،كچه لوگوں نے كها: اس بلاسٹ كسي كي شهادت نهيں هوئي هے ليكن ميرا دل مطمئن نهيں تهااس لئے ميں نے كها: مجهے ابراهيم كو ديكهنا هے۔ ميرے اصرار پر سر اسے ڈهونڈنے نكلے تو كسي نے بتايا ابراهيم زخمي هوگيا هے،ليكن كچه هي دير بعد كهنے لگے: نهيں وه شهيد هوگيا هے۔مجهے اس كي شهادت كا يقين اس وقت هوا جب ميں نے اس كا جنازه اس كے باپ كے هاتهوں پر ديكها۔ يه كهتے هوئے ابراهيم كي والده رونے لگيں اور اس كي خاله نے گفتگو كو جاري ركهتے هوئے كها: الله كي پناه۔نهيں معلوم اسے كيوں راكٹ كا نشانه بنايا گيا۔ كيا اس نے بهي ان كو كوئي راكٹ مارا تها؟كيا مزاحمت والے مسجد سے راكٹ پهينكتے هيں جو مسجد پر راكٹ مارے جاتے هيں؟ رپورٹ كے مطابق،غزه پٹي ميں صهيونيوں نے اس بار اب تك 214 سے زائد مسجدوں پرحمله كيا هے۔ حاج زهيرالدوواسه شهيد ابراهيم كے والد هيں جو گهر كے دروازے پر كهڑے آنے والوں كي تسليت كا جواب خنده پيشاني سے ديتےهيں۔انهوں نے روز عيد فطر ابراهيم كے هاته كے زخمي هونے كي اشاره كرتے هوئےكها:زخمي هونے كے بعد دو دن وه اسپتال ميں داخل رها ليكن اس كے بعد جگه كي قلت كي وجه سے دسچارج كرديا گيا۔ليكن جمعه كو دوباره اسے اسرائيلوں نے راكٹ كا نشانه بنايا۔ حاج زفهير نے مزيد كها:ابراهيم نے جانے سے 15 منٹ پهلے مجه سے نماز ميں جانے كي اجازت لي اور جيسے هي وه باهر نكلا هميں ايك بلاسٹ كي آواز سنائي دي۔ هم حيران و پريشان باهر نكلے توابراهيم كو خاك و خون ميں غلطاں ديكها۔راكٹ اس كے سر ميں لگا تها اور وه شهيد هوچكا تها۔ اس شهيد كے والد نے مزاحمتي مجاهدين سے درخواست كي كه صهيونيوں سے اس كے بيٹے كے خون كا بدله ضرور ليں اور انهيں هرگز معاف نه كريں۔ انهوں نے كها: عربي ممالك فلسطين كے خلاف اور صيهونيوں كي حمايت ميں كام كرتے هيں اور فلسطينوں كي اس دردناك صورتحال كے اصل ذمه دار عربي ممالك هيں۔ حاج زهير نے كها: اهل فلسطين كي مزاحمت اور ثابت قدمي ان كے آخري قطره خون تك اور آخر ي بچے كي شهادت تك جاري رهے گي اور وه كبهي بهي دشمن كے سامنے گهٹنے نهيں ٹيكيں گے۔
نام:
ایمیل:
* رائے: